اسلام آباد: اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کے لیے استعمال ہونے والا چار ہندسوں کا پن کوڈ آج دنیا بھر میں بینکنگ سسٹم کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ صارفین نہ صرف اے ٹی ایم بلکہ مختلف ڈیجیٹل سروسز میں بھی اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے اسی کوڈ کا استعمال کرتے ہیں۔
پن کوڈ دراصل “پرسنل آئیڈینٹیفکیشن نمبر” (Personal Identification Number) کا مخفف ہے، جس کا مقصد صارف کی شناخت کو محفوظ طریقے سے تصدیق کرنا ہوتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا آغاز اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے انجینئر جیمز گڈ فیلو نے کیا، جنہوں نے 1966 میں اے ٹی ایم اور پن کوڈ سسٹم کا پیٹنٹ رجسٹر کرایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اے ٹی ایم کی ابتدائی ترقی میں جان شیپرڈ بیرن کا نام بھی شامل کیا جاتا ہے، تاہم جیمز گڈ فیلو کو اس نظام میں زیادہ محفوظ اور جدید انکرپٹڈ کارڈ اور پن بیسڈ سسٹم متعارف کرانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے، جو آج دنیا بھر میں رائج ہے۔