سری نگر : مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف اپنی حالیہ کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے ضلع شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں معروف اور قدیم تعلیمی و مذہبی درسگاہ جامعہ سراج العلوم کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ سراج العلوم کشمیر کی ایک قدیم اور معتبر درسگاہ تسلیم کی جاتی ہے، جہاں دہائیوں سے ہزاروں کشمیری طلبہ مذہبی اور عصری تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مقامی حلقوں کے مطابق اس ادارے کو نشانہ بنانا کشمیری مسلمانوں کے تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔
بھارتی حکومت نے یہ اقدام متنازع اور کالعدم قانون یو اے پی اے (UAPA) کے تحت اٹھایا ہے۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین حکم نامے میں نہ صرف ادارے کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بلکہ انتظامیہ کو جامعہ کے تمام اثاثے اور جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس ادارے کے روابط ایک کالعدم تنظیم سے ہیں اور یہاں انتظامی و مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔
ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایس ایس پی شوپیاں کی جانب سے 24 مارچ 2026 کو جمع کرائی گئی ایک خفیہ رپورٹ (ڈوزیئر) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جنوبی کشمیر کے اس اہم تعلیمی ادارے کے روابط کالعدم جماعت اسلامی جموں و کشمیر اور اس کے ذیلی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے ساتھ ہیں۔حکم نامے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد اور انٹیلی جنس معلومات سے یہ یقین کرنے کی پختہ وجوہات موجود ہیں کہ مدرسے کی عمارت کو غیر قانونی انجمن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ادارے کی زمین، عمارت اور دیگر تمام اثاثوں کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لے لیں۔انتظامیہ نے حکم دیا ہے کہ وہاں زیر تعلیم طلبہ کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے انہیں ضلع کے سرکاری سکولوں میں منتقل کر کے داخلہ دیا جائے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وادی کشمیر میں کالعدم تنظیموں سے منسلک اداروں کے خلاف جاری وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی کئی ایسے اداروں کو منفی رپورٹس کی بنیاد پر بند کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں، بشمول سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے پسماندہ طبقے کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔
اس فیصلے کو مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بھارتی حکومت کی مذہبی انتہا پسندی کا ثبوت ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے کشمیریوں کے مذہبی اور سماجی حقوق کو مسلسل سلب کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے نئی نسل کا مستقبل تاریک کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔حریت پسند تنظیموں اور انسانی حقوق کے مندوبین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور مذہبی آزادی کی ان مذموم خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔