Get Alerts

نقل مکانی معمول کی روایت، صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج پر نہ ڈالے: خواجہ آصف

نقل مکانی معمول کی روایت، صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج پر نہ ڈالے: خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر برفباری کے باعث نقل مکانی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری ایک معمول کی روایت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ نقل مکانی کا فیصلہ صوبائی حکومت کے احکامات اور جرگے کی مشاورت سے کیا گیا ہے، جس کا فوج کے کسی مبینہ آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 11 دسمبر کو ہونے والے جرگے میں 24 سے زائد مشران شریک تھے، جنہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی سے بھی رابطہ کیا اور بعد ازاں صوبائی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا اور متاثرہ افراد کے لیے 4 ارب روپے کا پیکیج مختص کیا گیا۔
وزیرِ دفاع نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ     علاقے میں سکول، ہسپتال اور تھانے جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں وہ ناکام رہی۔    جس آپریشن کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا کوئی وجود ہی نہیں، فوج نے حالیہ دنوں میں کوئی نیا آپریشن نہیں کیا۔
    صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کا ملبہ جان بوجھ کر سکیورٹی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ بعض علاقوں میں 12 ہزار فٹ کی بلندی پر بھی بھنگ کاشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس غیر قانونی کاشت سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم ٹی ٹی پی یا مقامی سیاسی عناصر کے ہاتھ لگتی ہے، جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وادیوں سے موسمِ سرما میں نقل مکانی کا ذکر برٹش راج کے گزٹ میں بھی موجود ہے، لہٰذا اس انسانی عمل کو سیاسی بحران کی شکل دینا افسوسناک ہے۔

ٹیگز: