غزہ: اسرائیلی فوج نے اٹلی سے روانہ ہونے والی امدادی کشتی "حنظلہ" کو غزہ پہنچنے سے پہلے ہی بین الاقوامی پانیوں میں حملہ کر کے روکا اور کشتی پر سوار تمام کارکنوں اور عملے کو اغوا کر لیا۔ یہ کشتی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے زیرانتظام تھی، جس میں 12 مختلف ممالک کے 21 سماجی کارکن سوار تھے، جن میں الجزیرہ کے دو صحافی بھی شامل تھے۔
کشتی کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے تقریباً 40 ناٹیکل میل کے فاصلے پر کشتی پر زبردستی قبضہ کیا۔ اس کارروائی سے قبل کشتی کی ایک رکن، اِما فوریو نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ "اسرائیلی فوج پہنچ چکی ہے، ہم اپنے فون سمندر میں پھینک رہے ہیں، غزہ میں قتل عام بند کرو۔" اس کے بعد کشتی سے تمام رابطہ منقطع ہو گیا اور اس کے کیمرے بھی بند کر دیے گئے۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے بتایا کہ یہ کشتی غزہ میں بھوک کے شکار فلسطینیوں کے لیے اہم امدادی اشیاء لے کر جا رہی تھی، جن میں بچوں کا دودھ، ڈائپرز، خوراک اور دوا شامل تھیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی کارروائی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ حملہ فلسطینی علاقائی پانیوں سے باہر، بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا۔
حماس کی مذمت
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس "بحری قزاقی" کی مذمت کرے۔ حماس نے بیان میں کہا ہے کہ "ہم کارکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری نیتن یاہو کی حکومت پر عائد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فلوٹیلا مشن اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔"
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی فوج نے میڈلین نامی امدادی کشتی کا راستہ روکا تھا، جو غزہ کے لیے سامان لے کر روانہ ہوئی تھی۔ اس کشتی کو غزہ سے تقریباً 200 کلو میٹر کی دوری پر روک کر واپس بھیج دیا گیا تھا۔
اس نئے حملے کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی جا رہی ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس مسئلے پر فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔