پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مون سون بارشوں، فلش فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر سیاحوں کے لیے خصوصی احتیاطی ہدایات جاری کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز اور حساس مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، ملک عدیل اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ مون سون کے دوران دریاؤں، آبشاروں، جھیلوں اور تیز بہاؤ والے پانی میں نہانا یا داخل ہونا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پانی کی سطح اور بہاؤ میں اچانک اضافہ جان لیوا صورت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے سیاحوں کو مشورہ دیا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات والے علاقوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور متاثرہ شاہراہوں پر سفر سے گریز کریں اور روانگی سے قبل ٹورازم ہیلپ لائن 1422 یا پہل-911 سے موسم اور سفری صورتحال سے متعلق تازہ معلومات ضرور حاصل کریں۔
ملک عدیل اقبال نے کہا کہ شدید بارش، طوفانی موسم یا سیلابی صورتحال میں غیر ضروری سفر نہ کیا جائے، جبکہ کشتی رانی صرف محفوظ اور مقررہ مقامات پر کی جائے اور لائف جیکٹ کا استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی اور سیاحتی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے خطرات پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ٹورازم پولیس، پہل-911 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ہدایات پر فوری عمل کیا جائے۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور تمام متعلقہ ادارے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ ان کا سفر محفوظ اور خوشگوار رہے.