سڈنی: آسٹریلوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز پر جرمانے کی حد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق نئے قوانین کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ بڑھا کر 99 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 68 ملین امریکی ڈالر) کر دیا گیا ہے، تاکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ضابطوں کی سختی سے پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔
حکومت نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کم عمر صارفین کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو زیادہ جوابدہ بنانا ہے۔
نئی قانون سازی کے تحت خودمختار ریگولیٹر “ای سیفٹی کمشنر” کو مزید اختیارات بھی دیے گئے ہیں، جن کے تحت وہ فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت بڑے پلیٹ فارمز سے مکمل ریکارڈ اور شواہد طلب کر سکے گا۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں قانون پر مکمل عمل نہیں کر رہیں اور اب بھی بہت سے بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سخت جرمانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت قوانین کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
حکام کے مطابق کم عمر صارفین مختلف طریقوں سے پابندیوں کو بائی پاس کر رہے ہیں، جن میں جعلی اکاؤنٹس بنانا یا بڑی عمر کے افراد کے اکاؤنٹس استعمال کرنا شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پابندی کے نفاذ کے بعد اب تک 50 لاکھ سے زائد کم عمر اکاؤنٹس بلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم خلاف ورزی کے واقعات اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔
وزیر برائے مواصلات نے کہا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف “کم سے کم اقدامات” کر رہی ہیں، جبکہ حکومت سخت نگرانی کے ذریعے نظام کو مؤثر بنانا چاہتی ہے۔
نئے قوانین کے تحت پلیٹ فارمز کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے کم عمر صارفین کو روکنے کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں، جبکہ ریگولیٹر کو مزید جانچ اور معلومات حاصل کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔