لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں بڑھتی ہوئی ٹریفک بے ترتیبی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے دس گنا تک بڑھانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ لاہور میں ٹریفک نظام کی بہتری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کم عمر ڈرائیونگ پر والدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جب کہ خطرناک ڈرائیونگ، ون ویلنگ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال جیسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ خطرناک انداز میں لٹکتے سریے والی گاڑیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ایسے مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شہریوں کو بروقت ٹریفک صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے ڈیجیٹل انفارمیشن اسکرینز لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جب کہ ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری شواہد منسلک کرنے کا نظام بھی متعارف کروایا جائے گا۔
لاہور کے 77 اور پنجاب کے 372 ٹریفک پوائنٹس کی ری ماڈلنگ کا جائزہ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل رہا۔ وزیراعلیٰ نے ٹریفک وارڈنز کے لیے نئی وردیوں اور جدید گاڑیوں کی فراہمی کی منظوری بھی دی، جبکہ انہیں شفافیت یقینی بنانے کے لیے "ان کیمرہ چالان" کا اختیار دینے پر بھی غور کیا گیا۔
مریم نواز نے کہا کہ ٹریفک کے موجودہ نظام میں بہتری دکھائی نہیں دے رہی، اس لیے محض اعلانات نہیں بلکہ مؤثر اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات کو روکنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور سختی ناگزیر ہو چکی ہے۔