اسلام آباد / پشاور / لاہور: ملک کے مختلف حصوں میں شدید موسمی صورتحال نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ اسلام آباد، راولپنڈی، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی شہروں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، کئی علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اچانک موسم کی تبدیلی کے بعد کالی گھٹاؤں اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ شدید بارش ہوئی، جس سے متعدد بل بورڈز گر گئے، جبکہ مختلف مقامات پر درختوں کے گرنے سے سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا ہو گئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی طرح راولپنڈی، ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں بھی بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ حسن ابدال کے صرافہ بازار میں دیوار کا ایک حصہ گر گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچائی۔ پشاور میں موسلا دھار بارش کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ ایک مقامی ہوٹل (ڈھابے) کی چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہو گئے۔ صوابی میں ایک باڑے کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ماں اور بیٹا زخمی ہو گئے۔
سوات کی تحصیل مٹہ میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے باعث گندم اور سبزیوں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، کسانوں نے حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور، فیصل آباد، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور دیگر شہروں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
ریسکیو اور بلدیاتی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں اور کچے مکانات میں رہائش اختیار نہ کریں۔