اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ان انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، تاہم کچھ حلقوں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی وجہ سے نتائج کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔
کامیاب امیدواروں میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 18 ہری پور سے بابر نواز خان، این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد اور این اے 129 لاہور سے محمد نعمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ این اے 143 ساہیوال سے محمد طفیل اور این اے 185 سے محمود قادر خان بھی کامیاب ہوئے ہیں۔
صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بھی کئی امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ پی پی 73 سرگودھا سے میاں سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور اور پی پی 98 فیصل آباد سے آزاد علی تبسم نے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح پی پی 115 محمد طاہر پرویز، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار اور پی پی 269 مظفر گڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی بھی کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے این اے 96 فیصل آباد کے ضمنی انتخاب کا نوٹیفکیشن روک دیا ہے، جہاں سے طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر کامیاب ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس اقدام کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے منسلک کیا ہے اور اس پر تحقیقات جاری ہیں۔
ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر 28.58 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ رہا۔ مختلف حلقوں میں ٹرن آؤٹ کی شرح میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ این اے 18 ہری پور میں 42.09 فیصد، پی پی 269 مظفرگڑھ میں 50.82 فیصد اور پی پی 73 سرگودھا میں 34.45 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ تاہم، بعض حلقوں میں کم ٹرن آؤٹ بھی دیکھنے کو ملا، جیسے این اے 104 فیصل آباد میں صرف 13.23 فیصد اور این اے 129 لاہور میں 18.67 فیصد ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔