Get Alerts

سندھ  مانگنے والے لال قلعہ اور جامعہ مسجد دلی کب واپس کر رہے ہیں ؟

سندھ  مانگنے والے لال قلعہ اور جامعہ مسجد دلی کب واپس کر رہے ہیں ؟

تحریر: طارق وسیم

بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ  سنگھ     نے بیان دیا ہےکہ   سندھ بھارت کا حصہ ہے اور اگر آج پاکستان کے ساتھ ہے تو کل واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ اتر پردیش کے بھابڑہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے راج ناتھ سنگھ اکیلے شخص نہیں ہیں جو ایسا سوچتے ہیں ،سندھ بالخصوص کراچی  میں رہنے والے اردو سپیکنگ لوگوں کی اکثریت کی  بھی اسی قسم کی رائے ہے اور وہ اب بھی دہلی   اور یوپی کی  جانب منہ کر کے آہیں بھرتے رہتے  ہیں۔
 سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کہ راج ناتھ سنگھ   کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔ اس حوالے سے پاکستانی سیاست دانوں نے بھی ان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور بھرپور بیانات دے رہےہیں۔ بھارتی اور پاکستانی میڈیا کی اکثریت اس بات پر متفق ہے  کہ مئی میں  پاک فوج اور فضائیہ کے ہاتھوں سبکی اٹھانے کے بعد بھارتی  عوام کو تسلی دینے کے لیے ان کی قیادت انڈین نیوی کے جہاز آئی این ایس وکرانت  کو  طاقت  کا استعارہ بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہے ،اور کراچی ،سندھ ، رن آف کچھ وغیرہ کا ذکر نے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھارت پاکستان پر  سمندر کے راستے یلغار کرے گا ،لیکن کیا ایسا ممکن ہے آئیے اسکا جائزہ لے لیتے ہیں ،بھارت اور پاکستان کی جنگی استعداد میں سب سے بڑا فرق ہے بڑھک بازی کا ،پاکستانی فوجی قیادت دنیا میں سب سے محتاط قرار دی جاتی ہے ،پاکستان اپنے فوجی معاملات ہمیشہ خفیہ رکھتا  ہے، آخری لمحے تک کسی کو  اپنی استعداد اور صلاحیت کا علم نہیں ہونے دیتا ۔دوسری جانب  بھارت کی  سیاسی قیادت ،میڈیا ،فوجی لیڈر شپ اور عوام  ،جنگی امور کے بارے نہ جانتے ہوئے بھی بڑھکیں مارتے رہتے ہیں ،پھر   چاہے لداخ  ہو کارگل ہو یا  مئی  کی جھڑپ ،بھارت کو  جنگ بندی کی اپیل کرنی پڑ تی ہے ، حد تو یہ کہ 1971  میں پاکستان کا ایک بازو ہم سے جدا ہوا  جس کا بہت شور مچایا جاتا ہے ۔
تاریخ پر نظر دوڑائیں تو  اس معرکے  کی حقیقت بھی  کچھ یوں ہے کہ پاکستانی آبدوز ہنگور نے بھارت  کے دو بحری جہاز کرپان اور کھکری اڑا کر رکھ  دیے تھے جن میں سے کھکری اب بھی سمندر کی تہہ میں دفن  ہے ،  پاک بحریہ کے اس  تارپیڈو  ایکشن کو دنیا بھر میں ، سمندری جنگ  کی بہترین  مثال کے طور پیش کیا اور پڑھایا جاتا ہے۔
لہذا بھارت کے پاس جنگ کی آپشن  تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے، ہاں دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ، یا  بھارت  اور افغانستان مل کر بھی بڑھکیں مار سکتے ہیں       ،اب آجاتے ہیں   چند تاریخی حقائق  کی جانب  ،جدید ریسرچ سے یہ بات ثابت ہے کہ سندھیوں کو ہندو مذہب کے وجود میں آنے سے قبل ہی لکھنا پڑھنا آتا تھا ۔سندھی زبان اور حروف تہجی  دنیا میں سب سے قدیم ہیں جن کی معلوم تاریخ  ساڑھے چھہ ہزار برس پرانی ہے ،یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر میں آتش پرستی اور فطرت پرستی ہی مذاہب سمجھے جاتے تھے ،ہندو مذہب ہو یا یہودیت یہ اس کے بہت بعد میں وجود میں آئے ۔ وادی سندھ کسی خاص علاقے کا نام نہیں، بلکہ  برصغیر پاک و ہند  کا نام ہی    سندھو ہوا  کرتا تھا،  جو دریائے سندھ سے منسوب  ہے   ۔سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے ،رہ گئی واپس لینے کے بات تو  پاکستان میں بھی  لوگوں  کی بہت بڑی تعداد مو جود ہے  ،جس کا ماننا ہے کہ  دہلی کا لال قلعہ ،جامعہ مسجد  اور خواجہ نظام الدین اولیا کا مزار یہ ہمارے  ہیں اور اب انہیں واپس لینے کا وقت آ چکا ہے ۔
راج ناتھ سنگھ اینڈ کمپنی کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان جنگ کے معاملے میں نہ تو کسی قسم کے احسا س کمتری کا شکار ہے، نہ بڑھک بازی کرتا ہے اور نہ ہی  ہماری پالیسیاں یو پی سے آئے سنکی دانشور بناتے ہیں    ،ویسے بھی ہمالیہ دنیا کی چھت کہلاتا ہے  اور اس کے دامن میں بسنے والے ہی اس خطے کے حقیقی وارث ہیں ،اور ہمالیہ کے  دامن میں ہماچل پردیش ،اتر کھنڈ اور پنجاب بستے ہیں ،دریائے سندھ وہاں سے نکلتا اور پاکستان میں بہتا ہے ،اس لیے  بی جے پی کو چاہیے خود کو  سنٹرل انڈیا تک محدود کر کے  خطے کے وارثوں کا ان  کا حق دے پھر چاہے وہ دہلی کالال قلعہ اور جامعہ مسجد ہی کیوں نہ ہوں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے

ٹیگز: