Get Alerts

ایس پی عدیل اکبر کی موت کی وجہ خودکشی قرار، پولیس نے انکوائری رپورٹ مرتب کر لی

ایس پی عدیل اکبر کی موت کی وجہ خودکشی قرار، پولیس نے انکوائری رپورٹ مرتب کر لی

اسلام آباد: اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی کے معاملے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ عدیل اکبر ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ماضی کے معاملات نے ان کی حالت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر نے خودکشی کی، اور اس دوران ان کے آپریٹر، ڈرائیور اور ڈاکٹرز کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدیل اکبر کو "ڈیپ روٹیٹڈ اسٹریس" (گہرے ذہنی دباؤ) کا سامنا تھا، جس کے اثرات ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر مرتب ہو رہے تھے۔

ڈاکٹر کے بیان کے مطابق، عدیل اکبر پروموشن نہ ہونے کے باعث دل برداشتہ تھے اور کئی بار خودکشی کے خیالات کا ذکر بھی کر چکے تھے۔ ان کے ڈاکٹر نے انہیں اور ان کی فیملی کو اسلحہ اور بلیڈز جیسے خطرناک اشیاء سے دور رکھنے کی سفارش کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایس پی عدیل اکبر کے خلاف بلوچستان میں دو سال تک انکوائری چلتی رہی تھی، جس کی وجہ سے ان کی پروموشن رک گئی تھی۔ انکوائری کے نتیجے میں انہیں سزا دی گئی تھی جس کا اثر ان کی ذہنی حالت پر گہرا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، عدیل اکبر کو اسلام آباد میں تعینات کرنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا تھا تاکہ ان کی پروموشن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم، ان کی ذہنی حالت کی خرابی کے باعث وہ پروموشن حاصل نہ کر سکے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر 8 اکتوبر کو اپنے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے گئے تھے، جہاں انہوں نے دفتری مسائل اور ذہنی دباؤ کے بارے میں بات کی تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق عدیل اکبر نے اس وقت کہا تھا کہ وہ خوش ہیں، لیکن رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ایس پی عدیل اکبر خودکشی سے قبل اپنے دفتر جانے سے پہلے گاڑی میں کچھ وقت گزارنے کے بعد اپنے آپریٹر اور ڈرائیور کے ساتھ سیکرٹریٹ گئے تھے۔

آخرکار، ایس پی عدیل اکبر نے دفتر خارجہ کے قریب خودکشی کر لی۔ ان کی آخری کال ایس پی صدر یاسر سے ہوئی تھی، جس میں سبزی منڈی کے کسی واقعے پر گفتگو کی گئی تھی۔

ٹیگز: