Get Alerts

سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ، چین و روس کی قرارداد مسترد

سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں دوبارہ نافذ، چین و روس کی قرارداد مسترد

نیویارک:اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں چین اور روس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد اکثریتی رائے سے مسترد کر دی گئی۔ قرارداد کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت ایران کو دی گئی رعایتوں میں توسیع تھا۔

ذرائع کے مطابق، قرارداد کی ناکامی کے بعد ایران پر عائد وہ تمام پابندیاں، جو جوہری معاہدے کے تحت معطل کر دی گئی تھیں، دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں 9 اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی، 4 نے حمایت کی، جبکہ 2 ممالک نے شرکت نہیں کی۔

روس کے نائب مستقل مندوب، دیمتری پولیانسکی، نے اجلاس میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایران پر پابندیوں کی بحالی کو مسترد کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدامات غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہیں، اور درحقیقت مغربی ممالک نیوکلیئر ڈیل کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر قانونی قرار دے۔ انہوں نے امریکا پر سفارتی عمل سے انحراف کا الزام لگایا، جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ شدید نگرانی متوقع ہے۔

ٹیگز: