پرانی دشمنیاں

پرانی دشمنیاں

آج کل ملکی افق پر سیاسی ہلچل اپنے عروج پر ہے۔ اپوزیشن ایک دن بھی موجودوہ حکومت کو اقتدار میں دیکھ کر راضی نہیں۔ عدم اعتماد کی تیاریوں کے ساتھ لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شدید مہنگائی کے باوجود عوام کثیر تعدادمیں کسی احتجاجی تحریک کاحصہ بننے میں عدم دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو ایک لحاظ سے اپوزیشن جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری جانب عالمی منظرنامے پر روس اور یوکرائن کی جنگ نے دنیا کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ اْدھرامریکہ کے نیٹو اتحادی روس کی اس حرکت پر دانت پیس رہے ہیں۔ تو اِدھر روس بھی اپنے خاموش اتحادیوں کے ساتھ ڈٹ گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ روس بھی گفتگو کا محور و مرکز بنا ہوا ہے۔ موضوعات کی اس قدر بہتات میں ایک ملاقات نے میرا سارا دھیان ہی تبدیل کردیا۔ ایک دوست کی دعوت پرلاہور کے ملحقہ ضلع قصور جانے کا اتفاق ہو ا۔ ہم جس گاؤں میں بطور مہمان مدعو تھے۔ وہاں کی خاندانی دشمنی کے واقعے نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیئے۔ اس خاندانی دشمنی کے ایک کردار سے ملاقات نے میری سوچ کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ صفیہ بی بی قصور کے گاؤں میر محمد کی رہائشی ہیں۔دیکھنے میں بھاری بھرکم وجود رکھنے والی عام سی دیہاتی خاتون لیکن ان کی کہانی کافی دلخراش ہے۔ اپنے ننھیال سے کئی دہائیوں پر مشتمل دشمنی میں ان کے والد بھائی شوہر بہنوئی اور چچازاد بھائیوں سمیت ایک سو پچیس افراد قتل ہوچکے ہیں۔صفیہ خود بھی پولیس کی حراست میں رہ چکی ہیں۔ صفیہ نے بتایا کہ وہ تین ماہ تھانے میں رہیں۔ ان کے بچے بہت چھوٹے تھے بلکہ ایک بیٹی تو صرف چند دن کی تھی اور بیمار بھی تھی۔ لیکن یہ سب صرف اس لیے برداشت کیا کہ ان کے ننھیال والے جوبہت امیر ہیں اور خود کو افضل سمجھتے ہیں۔ لہٰذا انھیں زیادتیوں پر کچھ سبق دیا جائے۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’ جب ماؤں کے بچے مرجائیں تو وہ مائیں کیسے زندہ رہتی ہیں اور وہ بہنیں کیسے زندہ رہتی ہیں۔ کیا انھیں سانس آتا ہے‘۔صفیہ کے اس جملے سے ان دشمنیوں کے نتیجے میں ہونے والے 
درد کو سمجھا جا سکتا ہے۔’’میر محمد‘‘ میں خاندانی دشمنی کی یہ داستان غیرمعمولی تو ہے لیکن انوکھی نہیں۔ پنجاب کے دیہات میں جرائم کی نوعیت ملک کے دوسرے حصوں سے کافی مختلف ہے۔ یہاں ہر تیسرے چوتھے گاؤں میں خاندانی اور گروہی دشمنیوں کے نام پر قتل و غارت گری کے واقعات عام ہیں۔ کہیں غیرت کے نام پر تو کہیں زمین جائیداد کے تنازعے وجہ بنتے ہیں۔ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ معمولی باتوں پر بھی قتل سے دریغ نہیں کررہے اور جب ایک دفعہ کوئی خاندان اس میں پڑ جاتا ہے تو پھر انتقام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ان کی آنے والے نسلیں اس کی قیمت چکاتی رہتی ہیں۔ عموماً نہایت معمولی تکرار سے شروع ہونے والے واقعات بڑی بڑی خاندانی دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہم عمومی طور پر دہشت گردی بڑے گروہوں سے منسوب کارروائیوں کو گردانتے ہیں۔ حالانکہ دو افراد یا خاندانوں کے درمیان خونی دشمنیاں بھی اس گلی،گاؤں اور شہر کے لئے خوف و دہشت کا باعث ہوتی ہیں۔ صرف اس سے اندازہ لگا لیں کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں پچھلے چالیس برس کے دوران خاندانی دشمنیاں آٹھ سو سے زائد زندگیاں نگل چکی ہیں۔ ان سارے معاملات کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا نظام انصاف تقریباً آخری سانسیں لے رہا ہے۔ عام عوام کا اب اس نظام پر کسی قسم کا اعتماد باقی نہیں رہا۔ اسی لیے دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اپنے قانونی مسائل کے حل کے لیے سست اور مہنگے نظام انصاف کے بجائے متبادل راستوں کو تلاش کرتے ہیں جن میں بعض اوقات قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی شامل ہوتا ہے۔ سماجی رہنما ؤں اور دانشور طبقے کی رائے میں قانون ہاتھ میں لینے کے دو بڑے اسباب ہوتے ہیں ایک تھکا دینے والا نظام انصاف اور دوسرا معاشرے کی فرسودہ روایات۔ ایسے کئی واقعات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ جب خاندانی دشمنیوں کے کیسز میں انصاف کی تاخیر پر مدعیوں نے ملزموں کو احاطہ عدالت میں ہی قتل کر دیا۔ یقین جانیں اگر ہم انصاف کے نظام میں جلد بہتری نہ لائے تو ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہوں گے جس میں آپ اپنے دشمنوں کو بھی عدالتوں میں مشکلات سے دوچار دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نظام انصاف کے خلاف عوام کے غصے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ یہ غصہ کوئی پرتشدد شکل اختیار کر لے۔ کچھ عرصہ قبل ہماری عدالتوں نے شاید ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا جب سو سال پرانے مقدمے کا فیصلہ جنوری 2018 میں ہماری سپریم کورٹ نے سنایا۔ یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا سپریم کورٹ میں 2005 میں پہنچا اور پھر اس معمولی زمین کے تنازع پر انصاف مہیا کرنے میں سپریم کورٹ کو تقریباً 13 سال لگے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق تقریباً 20 لاکھ سے زائد مقدمے مختلف عدالتوں میں فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ان میں کئی مقدمات ایسے ہیں جو تقریباً 25 سال سے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں اس تاخیر کا سبب کسی حد تک عوام اور زیادہ حد تک وکلا اور تفتیشی نظام ہے۔ ہمارے ہاں غیرسنجیدہ اور غیرضروری مقدمات کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے عدالتی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس سے نہ صرف فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ اہم مقدمات کی شنوائی میں بھی دیر ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو فوری بہتر بنانا چاہتی ہے تو صرف ایک کام کرے۔ لسانی، گروہی اور معمولی تنازعات پر مبنی مقدمات کی فہرست مرتب کر لے۔ تھانوں کی سطح پر ان مقدمات کے لیے سپیشل ڈیسک بنائے جائیں۔ پولیس ڈیسک کے ساتھ سماجی کمیٹیاں جوڑ کر طویل دشمنیوں کو ختم کرنے کی کوششیں ہونی چاہئیں۔ دانشوروں اور لکھاریوں کو بھی مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر جب تک لوگ خود اپنے غلط رویوں، ضد اور انا سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وہ خود بھی ایک اضطراب میں زندگی گزاریں گے اور اپنے آنے والی نسلوں کے لیے بھی وراثت میں صرف دشمنیاں چھوڑتے رہیں گے۔ صلح صفائی سے معاملات حل کراتے ہوئے اس بات کا بھی خا ص دھیان رکھیں۔ صرف ظالم اور مظلوم کے درمیان صلح کرانا ہرگز مقصد نہیں۔ ظالم کو ہر صورت اپنے جرم کی سزا بھی ملنی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں