لاہور: صوبائی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سانحہ سوات پر خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت شدید غم اور غصے میں ہیں، سوات میں بار بار ایسے دلخراش سانحات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ یہ سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ ہمدردی اور جوابدہی کا ہے۔ خیبرپختونخوا کے معصوم شہریوں کو ایئر ایمبولینس جیسے منصوبوں کا خواب دکھایا گیا، مگر جب ضرورت پڑی تو نہ ہیلی کاپٹر پہنچا، نہ غوطہ خور موجود تھے اور نہ ہی لائف بوٹس۔
انہوں نے سوال کیا کہ سوات میں مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے لوگوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آج تک عملی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مون سون کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں انتظامی غفلت انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بنی۔