ریاض/واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں منعقدہ عالمی انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران ایک بار پھر عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے بعد اب امریکہ کا اگلا تزویراتی اور فوجی ہدف کیوبا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس اہم فورم کا انتخاب کرتے ہوئے اپنی مستقبل کی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کا اگلا رخ کیوبا کی جانب ہوگا، جس کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھی متعدد بار کیوبا کو نشانہ بنانے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
امریکی حکومتی جماعت ریپبلیکن کے سینیٹرز نے بھی صدر ٹرمپ کے اس سخت موقف کی بھرپور تائید کی ہے۔ ایک سینیٹر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا اب دنیا میں کمیونسٹ آمریت زدہ ممالک کے دن گنے جا چکے ہیں۔ امریکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ آپشن استعمال کرے گا اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی انویسٹمنٹ کانفرنس جیسے بڑے اقتصادی پلیٹ فارم پر اس قسم کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب لاطینی امریکہ میں اپنے اثر و رسوخ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور کیوبا کی سرحدوں پر تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔