لاہور: پنجاب حکومت نے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 تیار کر لیا ہے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے تعلیمی بورڈز میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ ان کے کام کو مؤثر، تیز، اور شفاف بنایا جا سکے۔
آرڈیننس کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب کو بورڈز کا سربراہ یعنی کنٹرولنگ اتھارٹی قرار دیا جائے گا۔ اس سے حکومت کو بورڈز کی نگرانی میں مزید کنٹرول حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ، نجی شعبے کے افراد کو بورڈز میں افسران کے عہدوں پر تقرری کے مواقع دیے جائیں گے، جس سے حکومتی سطح پر تقرریوں کی شفافیت اور کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔
ترمیمی آرڈیننس میں 1976 کے ایکٹ کی مختلف شقوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں بورڈز کے افسران کی تقرریوں کے لیے کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری کی شرط، اور بورڈ کے افسران کو مکمل وقت کے عہدے دار کے طور پر کام کرنے کی ہدایت شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ملازمین کی کارکردگی اور نظم و ضبط کے نئے اصول بھی شامل کیے گئے ہیں۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق، بورڈز میں کئی کلیدی عہدے خالی ہونے کی وجہ سے امور متاثر ہو رہے تھے، اور ان خالی آسامیوں کو نجی شعبے کے ذریعے پُر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کام کی رفتار تیز اور شفاف ہو سکے۔ آرڈیننس کے تحت ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بورڈز کے نظم و نسق اور کارکردگی کا براہِ راست اختیار دے دیا گیا ہے۔
یہ ترمیمی آرڈیننس پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد فوراً نافذ العمل ہو گا اور پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز پر لاگو ہو گا۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے 1976 کے ایکٹ میں ان ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔