Get Alerts

 "یہ بقا کی جنگ ہے، ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے":ایران جنگ کے بعد امریکی وزیرِ دفاع اور جنرل ڈین کین کی کانگریس میں پہلی پیشی

 

واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین نے پہلی بار کانگریس کی 'ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی' کے سامنے پیش ہو کر اہم بریفنگ دی ہے۔ اس موقع پر امریکی قیادت نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے اسے امریکا کی بقا کی جنگ قرار دیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا ایران کے ساتھ تنازع کو شروع ہوئے ابھی صرف دو ماہ ہوئے ہیں۔ یہ امریکا کی بقا کی جنگ ہے اور ہم اپنے ملک کو محفوظ بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اور جرات مندانہ اقدامات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو اپنی افواج پر فخر ہے جو ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔بریفنگ کے دوران جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ور فوج ہے اور ہم ایران جنگ میں اپنے ابتدائی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے دفاعی بجٹ کے حوالے سے کہا  1.5 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مستقبل کی سکیورٹی کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ رہا ہے، اسی لیے دفاعی شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سیاسی مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں باہر سے زیادہ اندرونی طور پر ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکنز کے "شکست خوردہ الفاظ" کا سامنا ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کو موجودہ وقت کا بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی استحکام لایا جا سکے۔

ٹیگز: