Get Alerts

امریکی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی: وزیرِ دفاع نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا

امریکی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی: وزیرِ دفاع نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا

واشنگٹن :ٹرمپ انتظامیہ نے  پینٹاگون میں بڑی صفائی کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے سربراہ (چیف آف سٹاف) جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ ان کی جگہ وائس چیف آف سٹاف کرسٹوفر لانیو کو قائم مقام آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو ایک ایسے آرمی چیف کی ضرورت ہے جو صدر ٹرمپ اور ان کے فوجی ویژن پر مکمل عمل درآمد کر سکے۔ جنرل رینڈی جارج کو سابق صدر بائیڈن کے دور میں ستمبر 2023 میں آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا اور ان کی مدت ملازمت 2027 تک تھی۔
وہ سابق وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر ملٹری اسسٹنٹ رہ چکے ہیں، جسے موجودہ انتظامیہ "پرانے نظام" کی علامت قرار دیتی ہے۔نرل رینڈی جارج ایک تجربہ کار فوجی افسر سمجھے جاتے ہیں جن کی خدمات کی طویل فہرست ہے۔    انہوں نے پہلی خلیجی جنگ میں حصہ لیا۔    وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔    انہیں پیشہ ورانہ مہارت کے باعث بائیڈن دور میں اعلیٰ ترین عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ دنیا بھر میں، خاص طور پر ایران جیسے ممالک میں "رجیم چینج" کی خواہش رکھتا ہے، لیکن اب اسے اپنے ہی عسکری نظام میں غیر معمولی تبدیلیوں اور عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ اس اقدام کو پینٹاگون کے اندرونی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے اور اسے صدر ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کے تابع کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹیگز: