گاڑیوں کی کم طلب اور شرح سود میں اضافہ ، آٹو فنانسنگ میں مسلسل 13ویں مہینے کمی

 گاڑیوں کی کم طلب اور شرح سود میں اضافہ ، آٹو فنانسنگ میں مسلسل 13ویں مہینے کمی

کراچی: آٹو فنانسنگ میں مسلسل13 ویں مہینے کمی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق   آٹو سیکٹر میں بحرانی صورتحال ہے اور مسلسل 13 ویں مہینے آٹو فنانسنگ میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ گاڑیوں کی کم طلب اور شرح سود میں اضافے سے آٹو سیکٹر میں بحران کی صورتحال برقرار ہے کیونکہ مسلسل 13 ویں مہینے گاڑیوں کے لیے دیے گئے واجب الادا قرضے 8 ارب 50 کروڑ روپے کم ہو کر جولائی کے اختتام تک 285 ارب 20 کروڑ روپے رہ گئے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2022 میں فنانسنگ 368 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر تھی، اس کے بعد سے اس میں کمی ہو رہی ہے جو شرح سود 22 فیصد ہونے کا نتیجہ ہے، اس کے علاوہ گاڑیوں کے لیے کم قرضوں کی صورتحال مرکزی بینک کی جانب سے طلب کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے متعدد اقدمات کی وجہ سے ہوئی، جس کے سبب گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

مرکزی بینک کی جانب سے گاڑیوں کے لیے قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ کرنے اور ادائیگی کی مدت کم کرنے کی وجہ سے بھی مقامی اسمبلرز کی فروخت کو دھچکا لگا۔ماہرین کے مطابق سٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات کے بعد بینک فنانسنگ کے ذریعے گاڑیاں خریدنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

 مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینکوں کے ذریعے نئی گاڑیوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی جبکہ خالص واجب الادا قرضے کم ہو رہے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی کے سبب شرح سود میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے یا پھر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے سبب گاڑیوں کی قیمتیں مزید بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر شرح سود کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق آٹو سیکٹر دسمبر تک بحران کا شکار رہے گا اور گاڑیوں کی فروخت 2024 کے دوران بھی کم رہیں گی کیونکہ شرح سود میں بڑی تنزلی اور روپے کی قدر میں استحکام کا کوئی عندیہ نہیں ہے۔ شرح سود میں فوری کمی نہیں ہوگی تاہم اس میں 2024 کی دوسری ششماہی تک بتدریج کمی ہوسکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں