Get Alerts

بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب پر قائم سلال ڈیم کے دروازے کھول دیے

بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب پر قائم سلال ڈیم کے دروازے کھول دیے

لاہور / چنیوٹ / پاکپتن: بھارت کی جانب سے ایک بار پھر آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر قائم سلال ڈیم کے دروازے کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دریائے چناب میں سیلابی صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کنا ہے کہ ہیڈ قادرآباد کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 5 ہزار کیوسک تک جا پہنچی ہے، جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہیڈ خانکی پر بھی صورتحال سنگین ہے، جہاں 2 لاکھ 42 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ہیڈ مرالہ پر اگرچہ فی الحال نچلے درجے کا سیلاب ہے، لیکن چنیوٹ کے مقام پر حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ وہاں سے 4 لاکھ 57 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر چکا ہے اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ 10 لاکھ کیوسک تک کا ریلا چنیوٹ سے گزر سکتا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا اندیشہ ہے۔

تاہم چناب نگر میں بھی اونچے درجے کا سیلاب آ چکا ہے، جہاں 4 لاکھ 63 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ متعلقہ اداروں نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور نچلے علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر احمد پور شرقیہ کے علاقے بیلی والا پتن پر زمیندارہ بند ٹوٹ گیا، جس سے متعدد بستیاں پانی میں ڈوب گئیں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

دریائے ستلج میں بھی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔ پاکپتن میں بند ٹوٹنے سے کئی دیہات ڈوب گئے اور منچن آباد شہر کا زمینی رابطہ درجنوں بستیوں سے منقطع ہو گیا ہے۔ مقامی آبادی پریشانی کا شکار ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق سیلابی ریلے کا زور آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، لہٰذا عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں، مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 پر فوری رابطہ کریں۔

ٹیگز: