نیویارک: آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے صورتحال تاحال معمول پر نہ آسکی، اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں تقریباً 400 بحری جہاز اور 6 ہزار کے قریب ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کے دعووں کے باوجود انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے موجودہ صورتحال کو بدستور تشویشناک اور غیر یقینی قرار دیا ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے بتایا کہ خلیجی پانیوں میں سیکڑوں بحری جہاز اپنے سفر کو جاری رکھنے سے قاصر ہیں، جبکہ ان پر موجود تقریباً 6 ہزار ملاح بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ جہاز اور عملہ خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاہم ایک بڑی تعداد اب بھی خطرناک حالات کے باعث وہاں موجود ہے۔
آرسینیو ڈومنگیز کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کو ختم کرنے کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ سیاسی عزم، باہمی تعاون اور مؤثر سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
میری ٹائم ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر ایندھن، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی اس بحران کے اثرات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
آئی ایم او کے مطابق تنازع کے دوران بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو کم از کم 70 حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 19 ملاح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ادارے نے تمام متعلقہ ممالک اور عالمی بحری صنعت پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب تازہ اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد اب بھی معمول کی سطح سے کافی کم ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی جانب سے آبنائے کو کھلا قرار دیے جانے کے باوجود عالمی شپنگ کمپنیوں کے تحفظات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔