'عمران خان کی عام انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش، پی ٹی آئی کی بڑا سرپرائز دینے کی تیاری'

'عمران خان کی عام انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش، پی ٹی آئی کی بڑا سرپرائز دینے کی تیاری'
سورس: file

اسلام آباد:  سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں 6 ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا، سیاسی صورتحال میں تیزی آتی جا رہی ہے، مسلم لیگ ن جسے 'کنگز پارٹی سمجھا جا رہا ہے انتخابات کے اتنا قریب ہونے کے باوجود یہ جماعت خوابیدہ نظر آ رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جسے انتظامی طور پر دبایا جا رہا ہے، بظاہر انتخابی دنگل میں واپسی کی تیاریاں کر رہی ہے۔

سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ توقع تھی کہ 9 مئی کے بعد زیر کی گئی تحریک انصاف کے مقابلے میں نون لیگ اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن تاحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔  جبکہ دوسری جانب ایسی خبروں کی موجودگی میں کہ پارٹی کو عوامی اجتماعات اور سیاسی ریلیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، پی ٹی آئی کو عدالتوں سے بڑے ریلیف مل رہے ہیں جو پارٹی، اس کی قیادت اور کارکنوں کیلئے باعث تقویت ثابت ہو رہے ہیں، جنہیں 9 مئی کے بعد سے سنگین نوعیت کے قانونی اور فوجداری نوعیت کے مقدمات کا سامنا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف  کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انہیں عوام کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے اور اگر عام انتخابات میں بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان ہوگا تو پارٹی کے ووٹرز سرپرائز دے سکتے ہیں۔ اور اگر عمران خان کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی تو الیکشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی بڑا سرپرائز دینے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ 

انصار عباسی نے کہا کہ مبینہ انتظامی حمایت کے باوجود نون لیگ کو عوام کو متحرک کرنے کیلئے ابھی اپنی انتخابی مہم شروع کرنا ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ جس وقت نون لیگ کسی 'انجینئرڈ معجزے' کا انتظار کر رہی ہے، اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے کارکنان کو عدالتوں کے کچھ حالیہ فیصلوں کی وجہ سے بڑا حوصلہ ملا رہاہے۔

سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا کہ 9مئی کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد عام طور پر یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ پارٹی کو عام انتخابات کیلئے امیدواروں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ لیکن پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں دیگر تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اور صورتحال یہ ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی تعداد 2018کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

مصنف کے بارے میں