بے یقینی کی فضا

بے یقینی کی فضا

پچھلے چند دنوں سے ملکی فضا میں کچھ زیادہ ہی ہلچل نظر آرہی ہے۔ ملکی معیشت کا پہلے ہی بُرا حال اُدھر آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا کہ عمران خاں کے دَور میں طے کی جانے والی تمام شرائط پر عمل درآمد ہو گا تو تبھی اگلی قسط جاری ہوگی۔ ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق اتحادی حکومت نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے۔ اُدھر مہنگائی کی چکّی میں باریک پِستی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ عمران خاں کے دَور میں طے کی گئی شرائط پر عمل درآمد ہوا تو مہنگائی کا وہ طوفان اُٹھے گا کہ الحفیظ والاماں۔ جب قومیں ایسی ابتلاء میں مبتلاء ہوتی ہیں تو سر جوڑ کر بیٹھ رہتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اب بھی سیاستدانوں کے مابین نفرتوں کے ڈیرے اور بسیرے۔ 2011ء سے اب تک عمران خاں نے صرف نفرت کی سیاست ہی کی ہے اور جب سے پارلیمنٹ نے اُنہیں مسترد کیا ہے اُن کی نفرت اور غصہ دوچند ہو چکا۔ وزیرآباد میں اُن کے جلوس پر فائرنگ ہوئی تو اُنہوں نے وزیرِاعظم شہبازشریف، وزیرِداخلہ رانا ثناء اللہ اور ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کو اِس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اب 26 جنوری کوکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہہ دیا کہ سابق صدر آصف زرداری نے اُنہیں قتل کروانے کے لیے ایک دہشت گرد تنظیم کو پیسہ دیا اور طاقتور لوگ اِس منصوبے میں سہولت کار ہیں۔ عمران خاں نے کہا ”مجھے کچھ ہوا تو ساری قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ کن لوگوں نے کروایا۔ اُن کا پلان ہے کہ کسی طرح سے مجھے راستے سے ہٹایا جائے“۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ نگران حکومت کا مطلب نیوٹرل امپائر ہوتا ہے لیکن پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہمارے بدترین مخالفین کو بٹھا دیا گیا ہے جنہوں نے آتے ہی اُن کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔
عمران خاں الزامات کی بارش کرنے میں یَدِطولیٰ رکھتے ہیں اور اُن کے پیروکار اُن کی ہر بات کو (نعوذبااللہ) صحیفہئ آسمانی سمجھتے ہیں۔ عمران خاں کے پاس نہ تو وزیرآباد حملے کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی آصف زرداری کی سازش کا۔ اُنہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں اُس وقت کے نگران وزیرِاعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر 35 پنکچرز کا الزام لگایا اور بعد میں حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ دیا ”وہ تو سیاسی بیان تھا“۔ میاں برادران پر بھی الزام لگایا کہ اُنہوں نے اُسے خطیر رقم لے کر پیچھے ہٹ جانے کی پیشکش کی تھی۔ جس پر میاں شہباز شریف نے اُن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائرکر دیا۔ کئی سال گزرنے کے باوجود عمران خاں عدالت ہی میں پیش نہیں ہوتے۔ اُن کی الزامات لگانے کی فہرست بہت طویل لیکن آگے چلتے ہیں۔ 
عمران خاں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں اپنی ضد کی بھینٹ چڑھا دیں حالانکہ نہ تو پنجاب کے وزیرِاعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اسمبلی توڑنے کے حق میں تھے اور نہ ہی خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمود خاں۔ عمران خاں کا خیال تھا کہ جب یہ دونوں اسمبلیاں ختم ہو جائیں گی تو اتحادی حکومت عام انتخابات کے لیے مجبور ہو جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی ہونے کی توقع۔ اب عمران خاں کے سَر سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کا سایہ اُٹھ چکا، اُن کی سکیورٹی پر متعین پولیس کے 600 اہلکار واپس جا چکے۔ اب اُن کے پاس اُتنی ہی سکیورٹی ہے جتنی کہ ایک سابق وزیرِاعظم کے پاس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بوکھلاہٹ میں جو مُنہ میں آتا ہے، بول دیتے ہیں۔ اُنہوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں پر جو الزام لگایا ہے اُس میں کوئی حقیقت نہیں۔ خیبرپختونخوا کے نگران وزیرِاعلیٰ محمد اعظم خاں اچھی شہرت کے حامل سابق بیوروکریٹ ہیں۔ اُن کی تقرری سابق وزیرِاعلیٰ محمود خاں اور اپوزیشن لیڈر اکرم دُرانی نے افہام وتفہیم سے کی اِس لیے اِس الزام کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی کہ کے پی کے کی نگران حکومت اُن کے خلاف ہے۔ رہی پنجاب کی بات تو اِس کے نگران وزیراعلیٰ پر چودھری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز کا اتفاق نہیں ہوسکا چنانچہ معاملہ کمیٹی کے سپرد ہوا۔ لیکن یہاں بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ آئین کے عین مطابق الیکشن کمیشن کے پاس پہنچا جہاں قرعہ فال محسن نقوی کے نام نکلا۔ محسن نقوی چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین کے ہم زُلف بھی ہیں۔ نگران وزیرِاعلیٰ کی تقرری کے بعد عمران خاں نے یہاں تک کہہ دیا کہ محسن نقوی تو اُن کی حکومت کے خاتمے کی سازش میں شریک تھے۔ حیرت ہے کہ عمران خاں کی حکومت کے خاتمے کی ابتداء امریکی صدر جوبائیڈن سے ہوتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ تک پہنچی اور اب محسن نقوی تک۔ سوال یہ ہے کہ جب عمران خاں کو اُن کے ہمراہیوں کی غالب اکثریت کہہ رہی تھی کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے وہ مشکلات میں پھنس جائیں گے تو اُنہوں نے کسی کی بات پر کان نہ دھرے اور اب بقول میر 
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں 
اِس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی
اِس وقت وطنِ عزیز کی جو معاشی حالت ہے اُسے مدِنظر رکھتے ہوئے اگر عمران خاں کے دل میں ملک وقوم کے لیے رَتی بھر بھی ہمدردی ہوتی تو وہ سب کچھ بھلا کے مذاکرات کی میز پر آبیٹھتے۔ ہوا مگر یہ کہ اُدھر جنیوا کانفرنس میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اقوامِ عالم نے 10 ارب 70 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا اور اِدھر عین اُسی روز جب وزیرِاعظم میاں شہباز شریف قوم کو خوشخبری سُنا رہے تھے، عمران خاں اسمبلیاں تحلیل کروا رہے تھے۔ عمران خاں کے اِس عمل سے ایک عامی بھی سمجھ سکتا ہے کہ اُنہیں اقوامِ عالم کی اِس امداد سے بہت تکلیف پہنچی کیونکہ جب میاں شہباز شریف جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان سے روانہ ہورہے تھے تو عمران خاں نے کہا کہ یہ بھیک مانگنے جا رہے ہیں لیکن اِنہیں کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اقوامِ عالم کا اِن پر سے اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ میاں شہباز شریف تو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جنیواکانفرنس میں گئے تھے لیکن عمران خاں کو تو خود اُن کے بقول امداد اکٹھی کرنے کا 30 سالہ تجربہ ہے۔ 
2 صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد صورتِ حال گنجلک ہو گئی ہے۔ اِس اُلجھاؤ کے سلجھاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ آئینِ پاکستان کی رو سے اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہے جبکہ یہ انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے۔ وجہ یہ ہے کہ عام انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق ہوں گے اور اُسی حساب سے نئی حلقہ بندیاں بھی ہوں گی۔ ابھی تک تو نئی مردم شماری کا ڈول بھی نہیں ڈالا گیا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اِس قلیل عرصے میں مردم شماری بھی ہو جائے، حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور نئی انتخابی فہرستیں بھی تیار ہوجائیں۔ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات ہو جائیں تو پھر مرکز، سندھ اور بلوچستان میں نئی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔