نیویارک: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہو جاتا، سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے یا اسے تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل پر ہونے والی کانفرنس کے دوران کہی، جو سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوئی۔
شہزادہ فیصل نے کہا کہ اسرائیل-فلسطین بحران کا واحد حل دو ریاستی حل ہے، جو خطے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھے گا۔ ان کے مطابق، فلسطینیوں کو انصاف فراہم کرنا اس مقصد کی طرف اہم قدم ہے اور اس کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنے جائز حقوق کا حصول ممکن بنانا چاہیے، خاص طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جو 4 جون 1967ء کی سرحدوں میں ہو اور اس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب انیشی ایٹو کو منصفانہ اور انصاف پر مبنی حل کا فریم ورک قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں انسانی تباہی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے۔ سعودی عرب اور فرانس نے اس ضمن میں عالمی بینک سے فلسطین کے لیے 300 ملین ڈالر کی فراہمی کی معاونت کی بھی اطلاع دی۔