Get Alerts

عمران خان نے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے قطعاًنہیں روکا ہے :پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم

عمران خان نے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے قطعاًنہیں روکا ہے :پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس خبر کی سخت تردید کی ہے کہ عمران خان نے اپنے دونوں بیٹوں کو پاکستان آنے سے روک دیا ہے اور انہیں اپنی رہائی کے لیے کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے سے منع کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان، وقاص اکرم نے کہا کہ یہ خبریں مکمل طور پر غلط ہیں اور عمران خان نے اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے سے نہیں روکا۔

عمران خان کے دونوں بیٹے، سلیمان خان (28 سال) اور قاسم خان (26 سال)، نے پہلی بار مئی 2023 میں اپنے والد کی قید کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ عمران خان کی بہن، علیمہ خان نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ سلیمان اور قاسم امریکا جانے کے بعد پاکستان واپس آ کر اپنے والد کی رہائی کے لیے مہم کا حصہ بنیں گے۔

عمران خان، جو اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور 9 مئی 2023 کے احتجاج کے حوالے سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ عمران خان نے جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیٹے پاکستان نہیں آئیں گے اور کسی احتجاج یا سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان، وقاص اکرم نے ان خبروں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’عمران خان نے اپنے بیٹوں کو کبھی پاکستان آنے سے نہیں روکا، اور وہ جلد ہی پاکستان آئیں گے۔‘‘

حکومت نے عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے کے بارے میں کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری نے کہا کہ اگر وہ پاکستان آئیں گے تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا اور ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف، بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سلیمان اور قاسم خان برطانوی شہری ہیں، وہ پاکستانی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے، اور اگر وہ ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کا ویزہ منسوخ ہو سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر مختلف بیانات دیے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور انہیں اپنی سرگرمیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دینی چاہئیں۔

یہ معاملہ اب تک سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور اس پر مزید قانونی پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
 

ٹیگز: