Get Alerts

پہلگام حملہ، رافیل گرنے اور آپریشن مہادیو پر اپوزیشن کا لوک سبھا میں حکومت پر شدید دباؤ، بی جے پی دفاعی پوزیشن میں

پہلگام حملہ، رافیل گرنے اور آپریشن مہادیو پر اپوزیشن کا لوک سبھا میں حکومت پر شدید دباؤ، بی جے پی دفاعی پوزیشن میں

نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ کے مون سون سیشن میں مودی حکومت کو سخت سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ پہلگام حملے، رافیل طیاروں کے گرنے اور آپریشن مہادیو کی تفصیلات پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا، جس پر ایوان زیریں میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔

کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہ پہلگام جیسے حساس علاقے میں سکیورٹی کا بندوبست کیوں ناکام ہوا؟ انہوں نے کہا، "اگر خفیہ ادارے حملے کی پیشگی اطلاع نہ دے سکے تو پھر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ کالیان بینرجی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا، "آپریشن مہادیو کی ناکامی اور ٹرمپ کی سیز فائر تجویز پر مودی حکومت مسلسل خاموش ہے۔ کیا ٹوئٹر پر بھی جواب دینا مشکل ہو گیا ہے؟"۔
کانگریس کے رکن فرانسز جارج نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے تین رافیل، ایک SU-30 اور ایک MIG-29 مار گرائے، مگر حکومت نقصان چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "وزیر دفاع اصل سوالات کے بجائے عوام کو الجھا رہے ہیں۔"ایک اور اپوزیشن رکن امریندر سنگھ راجہ نے انکشاف کیا کہ بسیانہ ایئر بیس کے قریب گرنے والے رافیل طیارے کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور نو زخمی ہوئے، مگر حکومت نے واقعے کو "نامعلوم حادثہ" قرار دے کر دبانے کی کوشش کی۔پہلگام حملے کے ملزموں کے پاس سے پاکستانی چاکلیٹ برآمد ہونے کو NIA نے "ثبوت" قرار دیا، جس پر اپوزیشن نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دلیل ہے تو پھر NIA کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

حکومت کے سامنے اب بھی کئی سوالات باقی  ہیں ۔ اپوزیشن نے حکومت سے یہ سوالات اٹھائے ہیں:غیر جانبدار تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ کیوں؟،پہلگام میں اصل نقصان اور ناکامیوں کی تفصیل کیا ہے؟،جن ناموں کو پہلے مسترد کیا گیا، انہیں دوبارہ دہشت گرد کیوں قرار دیا گیا؟۔NIA جیسے متنازع ادارے کو ثبوت کے لیے قابلِ بھروسا کیوں سمجھا جا رہا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت اس وقت سیاسی، عسکری اور سفارتی محاذ پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالات کا سامنا کرتے ہوئے بی جے پی کی مسلسل خاموشی خود اس کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا مظہر بنتی جا رہی ہے۔

ٹیگز: