اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست گزشتہ ماہ 5 اگست کو پی ٹی آئی کے عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد سے خالی تھی، اور اب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو اس عہدے کے لیے نامزد کرنے کی درخواست دی ہے۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے پی ٹی آئی کے وفد کی ملاقات کے بعد جے یو آئی-ف نے اچکزئی کی نامزدگی کی حمایت پر رضامندی ظاہر کر دی۔ پی ٹی آئی وفد میں اسد قیصر، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور شہرام خان ترکئی شامل تھے، جبکہ جے یو آئی-ف کی جانب سے مولانا صلاح الدین ایوبی، ایڈووکیٹ جلال الدین اور مولانا اسجد محمود موجود تھے۔
ملاقات میں اپوزیشن کو متحد کرنے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر قومی جرگہ بلانے، اور سینیٹ کی خالی نشست کے حوالے سے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے حوالے سے قومی جرگہ بلانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق، پی ٹی آئی نے ملاقات کی تفصیلات محمود خان اچکزئی کو بھی بتائیں اور انہیں اعتماد میں لیا گیا۔ اس دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک نومبر میں ملک بھر میں عوامی اجتماعات کرے گی۔
اس سے قبل، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ جے یو آئی-ف اس عہدے کے لیے حمایت کرے گی، تاہم حالیہ ملاقات کے بعد اس کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اسی دن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور اہم قومی امور پر مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔