واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی طرف قدم بڑھایا تو یہ اس کا آخری اقدام ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران پرامن رویہ اختیار کرتا ہے تو امریکا اس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری طاقت کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن ہم نے اسے بروقت روک دیا۔ "ایران کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم کب اور کیسے حملہ کریں گے،" ٹرمپ نے کہا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران پر امریکی حملے سے پہلے یورینیم کی منتقلی نہیں ہوئی تھی، اور امریکی آبدوزوں سے 30 راکٹ فائر کیے گئے جو اپنے اہداف پر لگے۔ ان کے مطابق، ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ایٹمی پروگرام کو انسانی حقوق سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
معاشی پالیسی سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ "ٹیرف کا جواب ٹیرف سے دیں گے، اور امریکی حکومت معیشت کی بہتری کے لیے بڑے فیصلے کر رہی ہے۔"
ٹک ٹاک سے متعلق انہوں نے بتایا کہ "امیر لوگوں کا ایک گروپ ٹک ٹاک خریدنا چاہتا ہے اور اگلے دو ہفتوں میں وہ بتائیں گے کہ خریدار کون ہیں۔"
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "دنیا میں امریکا کی عزت بحال ہوئی ہے، اور سب ہماری قدر کر رہے ہیں۔" ساتھ ہی انہوں نے سابق صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ "مجھ سے پہلے والا صدر سیڑھیوں سے گرتا رہتا تھا۔" کینیڈا سے متعلق طنزاً کہا: "مجھے کینیڈا پسند ہے، اُسے امریکا کی ایک ریاست ہونا چاہیے۔"
نیویارک کی سیاست پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "جو بھی نیویارک کا میئر بنے، اسے سیدھا چلنا سیکھنا ہوگا۔" آخر میں ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ مشہور صنعتکار ایلون مسک کچھ معاملات پر ناراض تھے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے۔