اسلام آباد: وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سال بھر کا ریکارڈ پیش نہ کرنے والے شریف فیملی سے 30سال پرانا ریکارڈ مانگتے ہیں وزیر اعظم کے بیٹوں کا کاروبار باہر ہونے کے باوجود بھی جواب طلب کیا جا رہا ہے دو ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے حسین نواز نے مقررہ وقت میں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر جواب ریکارڈ کرایا چاہتے ہیں کہ شریف فیملی پر لگے جھوٹے الزامات مسترد ہوں.
اسلام آباد میں دانیال عزیز کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف ملک کے تیسری دفعہ منتخب وزیر اعظم ہیں استثنی کے باوجود وزیر اعظم نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تجویز بھی وزیر اعظم محمد نواز شریف نے دی تھی شریف خاندان نے تمام مطلوبہ دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں جھوٹے الزامات لگانے والے عمران خان کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ پاناما کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہو جائے گی مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر وزیر اعظم استثنی کا حق استعمال کرتے تو پھر وہ اور ان کے بچے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا کوئی جواز رکھتے تھے لیکن وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ان جھوٹے الزامات کو سپریم کورٹ سے مسترد کرایا جائے آج انسداد دہشتگردی کی عدالت اور الیکشن کمیشن میں عمران خان کی طلبی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں آواز لگی کہ ملزم عمران خان ولد اکرام اللہ نیازی کہاں ہیں یہ آواز اس جرم میں لگی کیونکہ عمران خان نے ملکی آئینی اداروں پر حملہ کیا اور بلانے پر پیش نہیں ہوئے .
دوسری طرف ساڑھے دس بجے عمران خان کی الیکشن کمیشن میں آواز لگی کہ عمران خان پارٹی کی فارن فنڈنگ پر جواب دیں جس کے لیے انہیں بار بار طلب کیا گیا مگر وہ نہیں آئے اور الٹا ادارے کو گالیاں دی گئیں اور ادارے کی تضحیک کی گئی جس پر ادارے کو عمران خان کے خلاف غیر مہذب کے الفاظ استعمال کرنے پڑے اسکے بعد ساڑھے گیارہ بجے سپریم کورٹ میں ایک اور آواز لگی جو مالی معاملات کے خردبرد کے حوالے سے تھی یہ آج کے دن کی تین آوازیں تھیں آئینی اداروں کی بار بار طلبی کے باوجود عمران خان پیش نہیں ہوئے اپنا دس سال کا ریکارڈ پیش نہ کرنے والے شریف فیملی سے 30سال پرانا ریکارڈ مانگتے ہیں وزیر اعظم کے بیٹوں کا کاروبار باہر ہونے کے باوجود بھی جواب طلب کیا جا رہا ہے اس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے حسین نواز کی درخواست کو مسترد کر دیاہے جس میں بالکل کوئی صداقت نہیں ہے اس کو سیاسی رنگ دیاجا رہا ہے تا کہ اس عمل کو روکا جائے انہوں نے کہا کہ حسین نواز کا تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا آئینی بالادستی کا ثبوت ہے حسین نواز مقررہ وقت میں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور جواب ریکارڈ کرایا شریف خاندان اعلٰی عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں ۔
جبکہ دانیال عزیز نے کہا کہ مخالفین نے پاناما کو سیاسی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا لیکن ناکام رہے عمران خان کی اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کی سازش بھی ناکام ہوئی سیاسی مخالفین کو تمام اوچھے ہتھکنڈوں پر منہ کی کھانا پڑی دانیال عزیز نے کہا کہ جے آئی ٹی کی شفاف انداز میں تحقیقات اعلٰی عدلیہ کی ذمہ داری ہے اور انشاء اللہ تحقیقات توقعات کے مطابق ہوں گی ایک سوال پر وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کو انصار عباسی کی خبر کا نوٹس لینا چا ہیے شریف فیملی پر جتنے بھی جھوٹے الزامات لگے انہیں مسترد ہونا چاہیے۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں