لاہور: پنجاب حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد اضلاع میں سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور، قصور، نارووال، پاکپتن، شیخوپورہ اور چنیوٹ سمیت کئی شہروں میں سیکڑوں سکول تاحکم ثانی بند کر دیے گئے ہیں۔
لاہور میں 45 سکول بند
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شہر کے 33 سرکاری اور 12 نجی سکول بدستور بند رہیں گے، جنہیں ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے متاثرہ علاقوں میں ریٹی گن روڈ، مانگا، شاداب کالونی، سگیاں، بند روڈ، شاہدرہ، اور موہلنوال سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
قصور میں 107 سکول بند
ضلعی انتظامیہ قصور نے ستلج اور راوی دریا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 107 سکول بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ تحصیل قصور کے 61، چونیاں کے 14 اور پتوکی کے 31 تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
نارووال، پاکپتن، شرقپور میں بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل
نارووال میں یکم سے 5 ستمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ پاکپتن میں 30 سکول، جن میں 18 پاکپتن شہر اور 12 عارفوالا کے ہیں، بند کیے گئے ہیں۔ شرقپور شریف میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 10 سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
چنیوٹ میں 88 سکول متاثر
چنیوٹ میں سیلابی پانی سے 88 سکول شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل کے مطابق 10 ہائی سکول سمیت 40 سکولوں میں پانی داخل ہو چکا ہے، جبکہ 5 بڑے مراکز صحت بھی متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور صحت مراکز کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سکولوں کی بندش کا مقصد طلبہ اور عملے کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ صورتحال بہتر ہونے پر متاثرہ تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔