واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی معاہدہ مکمل ہو گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک مل کر اپنے تیل کے ذخائر تلاش کریں گے۔ اس معاہدے میں دونوں حکومتیں مل کر ایک آئل کمپنی کا تعین کریں گی جو تیل کی تلاش کا کام انجام دے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ ایک دن پاکستان بھارت کو بھی تیل فروخت کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تجارتی معاہدے کی تفصیلی رپورٹ مناسب وقت پر دنیا کے سامنے پیش کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں متعدد تجارتی معاہدوں پر کام جاری ہے اور جاپان کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ بھی امریکہ نے ایک اچھا معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک سے بات چیت ہو رہی ہے اور سب ممالک امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے امریکہ کے تجارتی خسارے میں کمی آئے گی۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو یکم اگست سے نافذ العمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت ٹیرف ادا کرنے میں ناکام رہا تو اسے بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اس سے پہلے امریکہ بھارت سے 14.26 فیصد ٹیرف وصول کر رہا تھا۔
صدر نے بھارت کی تجارتی پالیسیوں کو سخت ترین اور ناپسندیدہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ کم کاروبار کیا جبکہ خود سب سے زیادہ ٹیرف وصول کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے روس سے بڑے فوجی سازوسامان کے سودے کیے ہیں اور چین کے بعد روس سے توانائی خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
مزید برآں، صدر ٹرمپ نے ایپل کمپنی کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر آئی فونز امریکہ میں تیار نہیں کیے گئے تو ایپل کو 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں۔
یہ تمام اقدامات امریکہ کی تجارتی پالیسی میں سختی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط بنانا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔