لاہور : لاہور کے شہر سے تعلق رکھنے والے، برصغیر کے مشہور گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 45 سال بیت گئے ہیں۔ ان کی آواز آج بھی لاکھوں دلوں میں بجاتی ہے اور ان کے گائے ہوئے گیت سینکڑوں برسوں تک سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے رہیں گے۔
محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو لاہور کے معروف محلے بھاٹی گیٹ میں پیدا ہوئے۔ اپنے ابتدائی دنوں میں وہ روزانہ لارنس گارڈن میں جا کر اپنی سریلی آواز سے لوگوں کو محظوظ کرتے۔ ان کی آواز میں ایسی کشش تھی کہ ہر کوئی ان کی طرف کھنچا چلا آتا۔
رفیع نے 1941 میں ممبئی کا رخ کیا، اور بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے گانے سے انقلاب برپا کیا۔ ان کی آواز نہ صرف فلمی دنیا کے سپر اسٹارز کے لیے ایک نعمت تھی بلکہ ان کی گائیکی میں ایسی جدت تھی کہ ہر گانا ایک نیا رنگ اور نیا جذبہ لے کر آتا تھا۔
اپنے 36 سالہ کریئر میں محمد رفیع نے 36,000 گیت گائے، جن میں غزلیں، بھجن، نعتیں اور ترانے شامل ہیں۔ انہوں نے 100 سے زائد موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور اپنی آواز سے فلمی صنعت کو زبردست کامیابی دلائی۔ ان کے مشہور گانے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی آواز کو "سروں کا دیوتا" کہا جاتا ہے۔
محمد رفیع نے اپنے کریئر میں پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے، جن میں 1960 میں پہلا اور 1977 میں آخری ایوارڈ شامل تھا۔ ان کی آواز کا کمال یہ تھا کہ چاہے وہ دلیپ کمار ہو یا امیتابھ بچن، ہر اداکار پر ان کی آواز جچتی تھی اور فلم سازوں کے لیے کامیابی کی ضمانت ہوتی تھی۔
31 جولائی 1980 کو 56 سال کی عمر میں محمد رفیع کا انتقال ہوا، لیکن ان کی آواز آج بھی کروڑوں دلوں میں دھڑکتی ہے۔ ان کا شمار وہ گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صرف فلمی دنیا کو نہیں، بلکہ پوری موسیقی کی دنیا کو اپنی آواز کے سروں سے تسخیر کر لیا۔