Get Alerts

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 229 ملین ڈالر کی کمی، مجموعی ذخائر 17.03 ارب ڈالر رہ گئے

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 229 ملین ڈالر کی کمی، مجموعی ذخائر 17.03 ارب ڈالر رہ گئے

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی بتائی گئی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق 24 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 229 ملین ڈالر کم ہو کر 17 ارب 3 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے، جبکہ اس سے قبل یہ 17 ارب 26 کروڑ ڈالر تھے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بیرونی مالی واجبات کی ادائیگی کے باعث ذخائر میں یہ کمی دیکھنے میں آئی۔ تاہم مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 22.44 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار رہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ذخائر میں سے 17.03 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک جبکہ 5.41 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق بیرونی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہوتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ ذخائر پاکستان کو درآمدی ضروریات پوری کرنے اور بیرونی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اب بھی مناسب سہارا فراہم کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ہفتوں میں برآمدات، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ جاری رہا تو زرمبادلہ ذخائر میں دوبارہ بہتری آ سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ذخائر کو طویل مدت تک مستحکم رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے فروغ اور جاری کھاتے کے خسارے پر قابو پانا ناگزیر ہوگا۔

ٹیگز: