ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں خطرناک حد تک اضافہ کر لیا ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح کے بہت قریب ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کی موجودہ افزودہ یورینیم کی مقدار 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ حد سے 45 گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران وہ واحد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے جس نے اتنی بڑی مقدار میں یورینیم افزودہ کیا ہے۔
ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اتنی بلند سطح پر افزودگی عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، اور اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ پر اسرائیل نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن نہیں، بلکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے عزم پر کاربند ہے۔ اسرائیلی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔