تحریر: طارق وسیم
بجٹ کی متوقع تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے، اس حوالے سے مختلف تجاویز اور آرا زیر گردش ہیں۔ پاکستانی عوام خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، مہنگی بجلی سے متاثر ہیں ، بلکہ یہ کہا جائے کہ مہنگی بجلی سے بد ظن ہیں،، تو زیادہ درست ہوگا ،عوام کی اچھی خاصی تعداد نیشنل گرڈ چھوڑ کر سولر یعنی شمسی توانائی استعمال کر رہی ہے ،پاکستان دنیا میں سولر بجلی استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شمسی توانائی سے بجلی بنانے کی شرائط سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں بھی سولر پینلز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی جا چکی ہے ۔
واضح رہے کہ حکومت نے 200 یونٹس استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کو دیا جانے ولا تحفظ ختم کر دیا ہے، بجٹ میں 500 یونٹ تک بجلی کی قیمت 14 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت بڑا ریلیف ہوگا جس سے مہنگائی اور حکومت کی مخالفت میں کمی آئے گی ،ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ 14 روپے فی یونٹ دی جانے والی مجوزہ بجلی میں ٹیکسز بھی شامل ہوں گے یا نہیں ،وزارت توانائی میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 200 یونٹ والے پروٹیکٹڈ صارفین سے بھی زیادہ تحفظ ملنے جا رہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اچانک ایسا کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم لیوی اور بجلی کے ٹیکسز دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں ،جبکہ گزشتہ 10 سال میں پاکستان کی فی کس آمدنی اس خطے میں سب سے کم بڑھی ہے ،ایک طبقہ فکر کا کہنا ہے کہ پاکستان اگلے چند ماہ میں ایران سے تیل اور گیس خریدنے لگے گا، جو مارکیٹ ریٹس سے کم پر دستیاب ہوں گے ،اس کی ٹرانسپورٹیشن پر بھی کم خرچہ آئے گا ،یہ ہوائی باتیں پاکستانی بزرجمہر قیام پاکستان کے وقت سے کر رہے ہیں ، مثلا فلسطین کا دفاع پاکستان کیوں نہیں کرتا ؟مسجد اقصیٰ کو آزاد کیوں نہیں کراتا ؟ایران سے سستا تیل اور گیس کیوں نہیں خریدتا ؟وغیرہ وغیرہ اور یہ باتیں کرنے والے لوگوں نےاپنے تعارف میں تعلیم یافتہ لکھ رکھا ہوتا ہے ،جہاں تک زمینی حقائق کا تعلق ہے تو وہ ذرا مختلف ہیں ،ایران امریکہ ڈیل میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ موجودہ ایرانی رجیم کو بین الاقوامی منڈی میں تیل اور گیس فروخت کرنے کی مکمل جازت ملتی ہے یا نہیں ،بظاہر یہ مشکل نظر آتا ہے کیونکہ پزشکیان اینڈ کمپنی یہ رعایت مانگ ہی نہیں رہے، ان کا زور تو اس ایرانی رقم پر ہے جو اس وقت دنیا کے مختلف بینکوں میں منجمد ہے ،اس میں سے 12 ارب ڈالر شاید انہیں مل جائیں لیکن تیل گیس فروخت کرنے کی کھلی اجازت ملنا ، ذرا مشکل لگتی ہے ۔
افغانستان کے حوالے سے بات کریں تو یہ ابھی کل ہی کی بات ہے ملا یعقوب نے ماسکو کا دورہ کیا ،روس نے انہیں ایس 400 سسٹم دینے کا اعلان کیا ،موصوف ابھی کابل پہنچے نہیں تھے کہ بیان داغ دیا کہ اب پاکستان افغانستان پر حملہ نہیں کر سکے گا ۔قصہ مختصر یہ کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہوگی ، تیل اور گیس خلیجی ممالک ہی سے لیا جائے گا اور پاکستان کیونکہ اس خطے میں اہمیت کا حامل ہےتو اس لیے متعلقہ ممالک سے اچھی خبریں ہی آئیں گی۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔