سلام آباد :سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق بی ایل اے بلوچستان کے عوام کی نمائندہ تنظیم نہیں بلکہ صوبے کی پسماندگی، غربت اور بے روزگاری سے فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ ملکی سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق 2024 کے دوران بلوچستان میں دہشت گرد حملوں اور جانی نقصانات میں( 53 فی صد)نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اس خطرے کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے حملے سڑکوں، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور سی پیک جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس کے منفی اثرات خطے کی معاشی ترقی پر مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں اس کی شمولیت کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔
سینیٹر نے زور دیا کہ بی ایل اے کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات، اس کی مالی معاونت اور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول، پائیدار امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بہتر طرزِ حکمرانی، معاشی ترقی، سیاسی شمولیت اور عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے۔