غزہ: اسرائیل کی زمینی اور فضائی حملوں میں تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 90 فلسطینی شہید اور 421 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے جبری قحط کے باعث مزید 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس سے قحط سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 339 ہو گئی ہے۔
صیہونی فوج کی بمباری خاص طور پر غزہ کے شیخ رضوان علاقے میں امدادی مرکز کے قریب ہوئی، جس میں کئی خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے ہیں۔ عالمی برادری نے بچوں اور خواتین کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ عالمی اداروں نے غزہ میں قحط کی سنگین صورتحال پر انتباہ جاری کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی ذرائع نے بھی ابو عبیدہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے لاش کی شناخت کی ہے۔
غزہ میں انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے جہاں قحط اور بھوک کی وجہ سے کئی افراد دم توڑ چکے ہیں۔ فلسطینی حکام نے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کی توسیع کے پیش نظر اسرائیلی حکام کو لندن میں دفاعی نمائش میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔