اسلام آباد: پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری حالیہ عسکری مہم "آپریشن غضب للحق" کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ معروف بین الاقوامی نشریاتی ادارے 'عرب نیوز' نے پاکستان کے معتبر تحقیقاتی ادارے سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (CRSS) کی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق رواں سال فروری کے مقابلے میں مارچ کے مہینے میں دہشت گردی کے واقعات میں 59 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشنز اور سرحد پار سے ہونے والی مداخلت کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات نے شرپسند عناصر کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے۔ فروری 2026 میں دہشت گردی کے گراف میں جو اضافہ دیکھا گیا تھا، مارچ میں اس میں نصف سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
آپریشن غضب للحق کے تحت کی جانے والی کارروائیوں نے دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کی بدولت شہری علاقوں میں تخریب کاری کے کئی بڑے منصوبوں کو بروقت ناکام بنایا گیا۔
سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ آپریشن کے اس تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔