نئی دہلی :انڈین وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کا مرکزی بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں دفاعی اخراجات کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم گذشتہ برس کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ہتھیاروں کی خریداری کے بجٹ میں 21.84 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دفاعی بجٹ میں یہ غیر معمولی اضافہ مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے فوجی ٹکراؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملے کا دعویٰ کیا تھا، جسے 'آپریشن سندور' کا نام دیا گیا تھا۔ اس تصادم کے بعد انڈین عسکری قیادت نے مستقبل کی جنگوں کے لیے 'مصنوعی ذہانت' (AI) اور 'ڈیٹا سینٹرک' ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بجٹ کا بڑا حصہ فضائیہ اور بحریہ کی کمی پوری کرنے پر خرچ ہوگا۔انڈین فضائیہ کو 114 نئے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے تاکہ سکواڈرنز کی تعداد پوری کی جا سکے۔ جرمنی کے ساتھ 10 ارب ڈالر مالیت کی 6 نئی آبدوزوں کا معاہدہ پائپ لائن میں ہے۔ ڈرونز، سینسرز اور سائبر وارفیئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کا دفاعی بجٹ اس کی جی ڈی پی کا 1.9 فیصد ہے، جو کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے زیادہ مگر چین کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ اگر انڈیا نے واقعی اپنی فوج کو جدید بنانا ہے تو بجٹ کو جی ڈی پی کے 3 فیصد تک لانا ہوگا۔
بجٹ کی سب سے حیران کن بات ایران کی چابہار بندرگاہ کے لیے کسی رقم کا مختص نہ کرنا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی پابندیوں کے ڈر سے انڈیا نے اس منصوبے سے فی الحال ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
ایران میں غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کی وجہ سے انڈیا بڑی سرمایہ کاری کو خطرناک تصور کر رہا ہے۔