Get Alerts

سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں: ایران کا امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات پر آمادگی کا اعلان

سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں: ایران کا امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات پر آمادگی کا اعلان

تہران/انقرہ : ترکیہ، قطر اور مصر کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں چھائے کشیدگی کے بادل چھٹنے لگے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جاری تعطل کو ختم کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا باقاعدہ حکم دے دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، صدر پزشکیان نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ جوہری تنازع کے حل کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ اس فیصلے کو خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی اور سیاسی کشیدگی میں کمی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے ترکیہ، قطر اور مصر کے حکام تہران اور واشنگٹن کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں مصروف تھے۔ ان ممالک کی جانب سے دی گئی تجاویز کے بعد دونوں فریقین نے لچک دکھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ ان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے سرفہرست ہے، جبکہ قطر مالیاتی اور مصر سیکیورٹی معاملات پر سہولت کاری فراہم کریں گے۔
اگرچہ ایران نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم ابھی تک بات چیت کے باقاعدہ آغاز کے لیے کسی حتمی تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ     مذاکرات مساوی بنیادوں اور قومی وقار کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔    بنیادی مقصد ایران پر عائد معاشی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔    امریکا کو  جوہری معاہدے کی روح کے مطابق اپنی یقین دہانیاں پوری کرنی ہوں گی۔

ٹیگز: