غزہ : انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی خدمات فراہم کرنے والی عالمی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" (ایم ایس ایف) نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ تنظیم کو غزہ میں اپنے امدادی کام کی اجازت دے۔ تنظیم نے 2025 کے اختتام پر ایک اور اپیل جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ 2026 میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بے گھر اور بے بس فلسطینیوں کے لیے انسانی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔
تنظیم نے کہا کہ وہ اسرائیلی حکام سے یہ توقع کرتی ہے کہ وہ "ایم ایس ایف" اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دیں، جو اسرائیل میں بھی رجسٹرڈ ہیں اور عالمی سطح پر انسانی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی حکومت نے یکم جنوری 2026 سے غزہ میں "ایم ایس ایف" سمیت 37 دیگر انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے ان اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا ڈیٹا فراہم کریں تاکہ اسرائیل اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکے، جس میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
"ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ان تنظیموں سے فلسطینیوں کا ڈیٹا طلب کیا جاتا ہے، تو یہ ان کے لیے مزید مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اسرائیل نے اس بین الاقوامی ادارے کی غزہ اور مغربی کنارے میں موجود رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو اس کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
ایم ایس ایف نے اسرائیلی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اسے اپنے امدادی کام میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ ادارے فلسطینیوں کا ڈیٹا فراہم کر کے اسرائیل کے لیے مخبری کا کام کر سکتے ہیں، ورنہ یہ تنظیمیں 2026 کے مارچ سے فلسطینی عوام کو علاج معالجہ کی خدمات فراہم نہیں کر پائیں گی۔