تحریر: طارق وسیم
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی مہم جاری ہے ۔بلاول بھٹو نے گزشتہ روز شگر میں جلسہ کیا اور اب مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سکردو پہنچ گئے ہیں۔ یہ ریاستی اسمبلی کے چوتھے الیکشنز ہیں مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ تھے ۔پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ایک ایک مرتبہ یہاں حکومت کر چکی ہیں، اس سےقبل ہونے والے تینوں انتخابات میں بھی کافی گہما گہمی رہی تھی۔
پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی ٹاپ لیڈر شپ یہاں انتخابی مہم چلاتی رہی ہے،مسلم لیگ ن کی جانب سے ماروی میمن اور امیر مقام انتخابی مہم چلا چکے ہیں ۔یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف خود سکردو پہنچے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو نے کل شگر میں جلسے کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ یہ وزارتیں ختم کر دی جائیں تب ہی آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ممکن ہے۔بلاول بھٹو ،آصف زرداری یا عمران خان نیازی، بارہا ملنے والے مواقع پر ایسا ثابت کر چکے ہیں،بڑھکیں مارنا مخالفین کی کردار کشی کرنا،اقتدار میں آنا اور سرکاری خزانے کو گھر کی تجوری سمجھنا ،یہ ہے ان لوگوں کی کل سیاست لیکن ریاست کو کسی سٹیٹس مین کی ضرورت درپیش ہے جو گلگت بلتستان میں عوام کے حقوق کی بات کرے اور اپنے انتخابی منشور کو عوامی امنگوں اور ضرورتوں کے مطابق بنائے۔
مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کی قیادت خواجہ سعد رفیق کو سونپی ہے جو حلقوں کی سیاست سے واقف ہیں ۔امید ہے نواز شریف بھی اپنے دورے میں سٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیار محبت اور بھائی چارے کی کمپین کریں گے۔ مسلم لیگ ن سمیت جماعت اسلامی اور آئی پی پی وہی جماعتیں ہیں جو اس الیکشن میں قومی وحدت کی بات کر رہی ہیں۔ الیکشن کے نتائج کیا ہوتے ہیں اس کا فیصلہ تو الیکشن کے بعد ہی ہوگا۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔