تہران : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے لرزہ خیز حقائق سامنے آ گئے ہیں۔ ان کے قریبی نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد الہٰی نے انکشاف کیا ہے کہ حملے کے وقت شدید خطرات کے باوجود سپریم لیڈر نے بنکر میں پناہ لینے سے صاف انکار کر دیا تھا اور وہ اپنی عوام کے درمیان رہ کر ہی جامِ شہادت نوش کرنے پر بضد تھے۔
ڈاکٹر عبدالماجد الہٰی کے مطابق، جس وقت تہران پر امریکی میزائلوں کی بارش ہو رہی تھی، حفاظتی عملے نے آیت اللہ خامنہ ای سے بنکر میں منتقل ہونے کی التجا کی، جس پر انہوں نے تاریخی الفاظ کہے۔ "پہلے میری قوم کو بچاؤ، پھر میری فکر کرنا۔ میں اپنی عوام کو اس مشکل گھڑی میں تنہا چھوڑ کر کسی بنکر میں نہیں جاؤں گا۔ ڈاکٹر الہٰی نے بتایا کہ جس وقت مہلک میزائل نے ہدف کو نشانہ بنایا، آیت اللہ خامنہ ای اپنے گھر میں واقع دفتر میں ہی موجود تھے اور وہیں سے ریاستی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔اس افسوسناک حملے کی اندرونی کہانی کے مطابق، سپریم لیڈر کے ساتھ ان کی اہلیہ اور ان کا پوتا بھی شہید ہو گئے ہیں۔