Get Alerts

مودی سرکار کا 'اسرائیل کارڈ' الٹا پڑ گیا، بھارت میں سیاسی بھونچال، 'قومی غداری' کے نعرے

مودی سرکار کا 'اسرائیل کارڈ' الٹا پڑ گیا، بھارت میں سیاسی بھونچال، 'قومی غداری' کے نعرے

نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں مودی حکومت کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت اور حالیہ متنازع دورے نے بھارت کو داخلی اور خارجہ محاذ پر شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کو اس وقت اپنی ہی اپوزیشن اور عالمی تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت ترین تنقید کا سامنا ہے۔بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں وزیراعظم مودی کے دورۂ اسرائیل کو خطے میں "تباہی کا پیش خیمہ" قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ   مودی کے اقدامات سے یہ تاثر گیا ہے کہ بھارت، ایران پر اسرائیلی جارحیت کا حصہ ہے، جو کہ دہائیوں پرانی بھارتی خارجہ پالیسی کے خلاف ہے۔
 ناقدین کا الزام ہے کہ مودی کا ردِعمل بھارت کی اخلاقی اقدار اور سٹریٹجک مفادات سے صریحاً غداری ہے، جس سے توانائی کے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔معروف عالمی جریدے ’’بلومبرگ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ مودی کے حالیہ سفارتی اقدامات نے بھارت کو مشرقِ وسطیٰ میں تنہا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  "بھارتی اپوزیشن کا یہ دعویٰ وزن رکھتا ہے کہ مودی کے دورے نے ایران کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی ہے، جس کے اثرات اب بھارتی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر کریش کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔"
بھارت بھر میں مودی کی 'اسرائیل نواز' پالیسی کے خلاف احتجاجی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنے تاریخی دوست ممالک (عرب دنیا اور ایران) کو ناراض کر کے ایک ایسی جنگ میں فریق بننے کی کوشش کی ہے جو خود بھارت کے لیے معاشی خودکشی ثابت ہو سکتی ہے۔

ٹیگز: