Get Alerts

ایپسٹین فائلز کا تنازع: بھارتی سیاست میں بھونچال، مودی حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ

ایپسٹین فائلز کا تنازع: بھارتی سیاست میں بھونچال، مودی حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ

نئی دہلی : بدنامِ زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی خفیہ فائلز میں مبینہ طور پر وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارت میں سیاسی درجہ حرارت نقطہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) میں آج شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن اراکین نے پلے کارڈز اٹھا کر وزیراعظم مودی سے استعفیٰ اور وضاحت کا مطالبہ کیا، جس کے باعث کارروائی میں بار بار خلل پڑا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قومی وقار کا معاملہ ہے اور حکومت کو اس پر دو ٹوک جواب دینا ہوگا۔
بھارت کی بڑی اپوزیشن شخصیات نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔    پریانکاگاندھی (کانگریس ) نے مودی کے ایپسٹین سے مبینہ روابط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خاموشی بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔
    سنجے سنگھ (عام آدمی پارٹی)  'آپ' رہنما نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے پوچھا کہ "کیا یہی وہ اخلاقیات ہیں جن کا پرچار بی جے پی کرتی آئی ہے؟،۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کی سازش قرار دیا ہے۔
 بی جے پی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ فائلز گمراہ کن ہو سکتی ہیں اور وزیراعظم کا نام سیاسی دشمنی کی بنیاد پر گھسیٹا جا رہا ہے۔
 حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس ایجنڈا نہیں، اس لیے وہ عالمی سطح کے متنازع معاملات کا سہارا لے کر ملک کو بدنام کر رہی ہے۔

ٹیگز: