نئی دہلی:ایران پر اسرائیلی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل نے بھارت کی اندرونی سیاست میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس (INC) نے ایک دھماکہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے مودی حکومت پر بھارت کی دہائیوں پرانی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو "نیلام" کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
کانگریس کے محکمہ خارجہ امور کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادیں 'عدم تشدد' اور 'ناوابستگی' (Non-Alignment) پر استوار تھیں، لیکن مودی سرکار نے اسرائیل کا ساتھ دے کر ان اصولوں کو دفن کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق "25-26 فروری کا دورہ اسرائیل ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرقِ وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر ہے، جو کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کی "متعصبانہ صف بندی" کے بھارت کے لیے سنگین اسٹریٹجک نتائج برآمد ہوں گے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ بھارت کے مفادات صرف اسرائیل نہیں بلکہ ایران، فلسطین اور وسیع تر عرب دنیا سے جڑے ہیں۔ ایران کے ساتھ بھارت کے تہذیبی، توانائی اور معاشی تعلقات کو مودی کی ذاتی ترجیحات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ اس غیر متوازن پالیسی سے بھارت کی توانائی کی حفاظت (Energy Security) شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
کانگریس نے ایک انتہائی حساس نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت دوسرے ممالک (جیسے ایران) کی خودمختاری پر حملوں کی خاموش حمایت کرتا ہے، تو اس سے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoK) پر بھارت کا اپنا اصولی اور اخلاقی موقف عالمی سطح پر کمزور ہو جائے گا۔
اعلامیے میں 2019 کے "ہاؤڈی مودی" پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی قومی انتخابات کے موقع پر غیر ملکی دوروں کو اپنی سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریس نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ "تعلقات قوموں کے درمیان ہوتے ہیں، انفرادی لیڈروں یا مخصوص نظریاتی جماعتوں کے درمیان نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی اپوزیشن اب ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملے پر مودی حکومت کو عالمی سطح پر کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تہران اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔