نئی دہلی:مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھارت کے اندر سے ہی شدید ردِعمل سامنے آنے لگا ہے۔ بھارتی سیاستدان آنند بھدوریا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "منافقانہ اور مکروہ" قرار دے دیا ہے، جس سے بھارتی سیاست میں ایک نیا طوفان برپا ہو گیا ہے۔
بھارتی سیاستدان آنند بھدوریا نے بی جے پی حکومت سے چبھتے ہوئے سوالات کرتے ہوئے کہا جب اسرائیل غزہ میں معصوم انسانوں کی نسل کشی (Genocide) کر رہا تھا، تو مودی کے سوا کس عالمی رہنما نے اسرائیل کا دورہ کیا؟ مودی نے یہ دورہ کس کے مشورے پر کیا؟۔
مودی نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور وہ خطے کے امن کو داؤ پر لگا کر عالمی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
آنند بھدوریا نے اپنے بیان میں ایرانی سپریم لیڈر اور قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہم ایرانی قیادت کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے شہادت تو قبول کی مگر مودی کی طرح امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے اندر سے اٹھنے والی یہ آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ مودی کی "اسرائیل نواز" پالیسی پر خود بھارت کے عوامی نمائندوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کی روایتی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو دفن کر کے اسے خطے میں ایک متنازع ملک بنا دیا ہے۔