Get Alerts

تہران کا تل ابیب پر بڑا حملہ: نیتن یاہو کے دفتر پر میزائلوں کی بوچھاڑ

تہران کا تل ابیب پر بڑا حملہ: نیتن یاہو کے دفتر پر میزائلوں کی بوچھاڑ

تہران/یروشلم : مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس وقت انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جب ایران کے اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (IRGC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر اور فضائیہ کے سربراہ کی رہائش گاہ پر براہِ راست میزائل حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو کی زندگی اور سلامتی کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سپاہ نیوز‘ نے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی اچانک کی گئی جس میں دو اہم ترین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ تل ابیب میں واقع نیتن یاہو کا مرکزی دفتر، اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار کی رہائش گاہ۔
اس سرپرائز حملے میں ایران نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ’خیبر شکن‘ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس میزائل کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔     مار کرنے کی صلاحیت: 2,000 کلومیٹر (جو اسرائیل کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے)۔    وار ہیڈ: 1,500 کلوگرام وزنی بارود لے جانے کی صلاحیت۔ یہ میزائل اپنی تیز رفتاری اور دفاعی نظاموں (جیسے ایرو اور پیٹریاٹ) کو چکمہ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "نیتن یاہو کی قسمت فی الحال نامعلوم ہے، حملے کے نتائج اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی قیادت حزب اللہ کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ تہران کے اس اقدام نے خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔

ٹیگز: