غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ کے حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بحری قزاقی اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے امدادی کشتیوں پر سوار کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جو کہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ تنظیم نے اس اقدام کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے دنیا بھر کے لوگ شدید غصے میں مبتلا ہوں گے۔
مزاحمتی تنظیم نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کی سخت مذمت کرے اور امدادی کارکنوں اور کشتیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔
یاد رہے کہ یہ امدادی قافلہ 31 اگست کو اسپین سے روانہ ہوا تھا اور راستے میں مختلف ممالک سے اس میں مزید کشتیوں اور کارکنوں نے شمولیت اختیار کی۔ رپورٹ کے مطابق، فلوٹیلا میں شامل درجنوں کشتیوں پر تقریباً 500 افراد موجود تھے، جنہیں اسرائیلی بحریہ نے فلسطینی سمندری حدود سے تقریباً 90 سمندری میل دور روک کر تحویل میں لے لیا ہے۔