کیلیفورنیا: انسٹاگرام نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے بنائے گئے ایسے فرضی اکاؤنٹس کے خلاف اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خود کو حقیقی افراد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
پلیٹ فارم پر صارفین کی جانب سے مسلسل شکایات سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات وہ کسی پروفائل کو حقیقی انسان کا اکاؤنٹ سمجھتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ شخصیت حقیقت میں موجود ہی نہیں اور اس کی شناخت اے آئی کے ذریعے تخلیق کی گئی ہے۔
انسٹاگرام ان اکاؤنٹس کو براہِ راست ختم نہیں کرے گا، تاہم ان کی مصنوعی نوعیت واضح کرنے کے لیے موجودہ ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل میں تبدیلی کی جائے گی۔ نئے نظام کے تحت ایسے پروفائلز پر ’اے آئی جنریٹڈ پروفائل‘ کا لیبل دکھایا جائے گا۔
انسٹاگرام کے مطابق فرضی اے آئی شخصیات پر مبنی ایسے اکاؤنٹس جن پر مناسب شناختی لیبل موجود نہیں ہوگا، ان کی رسائی محدود کی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان اکاؤنٹس کی پوسٹس پہلے کے مقابلے میں کم صارفین تک پہنچیں گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ پالیسی میں یہ تبدیلی صارفین سے موصول ہونے والی آراء کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ انسٹاگرام نے رواں برس کے آغاز میں ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کی آزمائش شروع کی تھی تاکہ پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کرداروں اور جعلی پروفائلز کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بہتر انداز میں منظم کیا جاسکے۔
نئی پالیسی کا بنیادی مقصد صارفین کو یہ جاننے میں آسانی فراہم کرنا ہے کہ ان کے سامنے موجود پروفائل کسی حقیقی فرد سے تعلق رکھتا ہے یا اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔